باوقوف

( باوُقُوف )
{ با + وُقُوف }

تفصیلات


فارسی حرف جار اور عربی اسم سے مرکب ہے۔ عربی اسم 'وقوف' کے ساتھ فارسی حرف جار 'با' بطور سابقۂ فاعلی لگنے سے 'باوقوف' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٤٦ میں "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - علم و شعور رکھنے والا، واقف، جاننے والا۔
"بادشازادہ بہت سا جو باہوش و باوقوف تھا سو ایسی باتیں کرتا ہے کہ جہاں آرائے بہت خوش ہوتی ہے۔"      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ١٥١ )