سوفسطائیت

( سوفِسْطائِیَّت )
{ سو (و مجہول) + فِس + طا + ای + یَت }
( عربی )

تفصیلات


سوفطہ  سوفِسْطائی  سوفِسْطائِیَّت

عربی سے ماخوذ اسم 'سوفسطائی' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے 'سوفسطائیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٥٥ء کو "اردو میں دخیل یورپی الفاظ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - سوفسطائی ہونے کی حالت یا کیفیت نیز سوفسطائی خیالات یا فرقے کی پیروی۔
"اور یہی خیال موجودہ زمانے کے الحادی فرقوں کا ہے جسے وجودی اور دیگر اباجی فرقے، کیونکہ یہ تمام فرقے درحقیقت سوفسطائیت کی شاخیں ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، فکرونظر، اسلام آباد، جنوری، ٥٠٨ )