اسٹیج

( اِسْٹیج )
{ اِس + ٹیج (ی مجہول) }
( انگریزی )

تفصیلات


انگریزی زبان کے لفظ Stage سے ماخوذ ہے۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی عام بول چال کی زبان میں استعمال ہونا شروع ہوا۔ البتہ تحریری صورت میں ١٩٠٤ء کو "مجموعہ نظم بے نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : اِسْٹیجوں [اِس + ٹے + جوں (و مجہول)]
١ - اونچا چبوترا (یا جگہ) جو کسی تماشا گاہ یا جلسے وغیرہ میں سب سے بلند اور صدر مقام ہوتا ہے۔
"ذہن خود بخود اس شعر کی طرف منتقل ہوا جو میں نے اسٹیج پر کھڑے ہوتے ہی پڑھا تھا۔"
٢ - منظر عام، جیسے : یہ ان کے نجی معاملات ہیں انھیں اخبار میں چھپوا کر بلا ضرورت اسٹیج پر نہیں لانا چاہیے۔
٣ - تکمیل تک پہنچنے میں جن منزلوں سے کوئی معاملہ گزرتا ہے ان میں سے ہر ایک منزل، دوران کار کا ہر مرحلہ، دورانہ، نوبت۔
"ذکر کی ہر اسٹیج ضرب کہلاتی ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، حیات طیبہ، حیرت، ٩٦ )
  • stage