بات چیت

( بات چِیت )
{ بات + چِیت }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بات' کے ساتھ تابع مہمل 'چیت' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٦ء میں "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث )
١ - گفتگو، بول چال، حرف و حکایت۔
"دوپہر کو - ان سے بات چیت ہوتی ہے۔"      ( ١٩١٦ء، گہوارۂ تمدن، ١٢١ )
٢ - معاملت، مول تول۔
"ان کے مکان کی بات چیت چار ہزار روپئے تک پہنچ گئ ہے، امید ہے کہ کل بیعانہ بھی ہو جائے گا۔"      ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ١٧٤:٢ )
  • talk
  • conversation
  • discourse