بات کا سر پیر

( بات کا سَر پَیر )
{ بات + کا + سَر + پَیر (یائے لین) }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بات' کلمۂ اضافت 'کا' اسم 'سَر' اور اسم 'پیر' سے مرکب ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٥١ء میں مومن کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - کسی بات کی اساس جس کی بنا پر وہ کہی جائے یا بات کی معقولیت (ہونا، نہ ہونا، کے ساتھ مستعمل)۔
 بیخودی میں نہ بات کا سر پاؤں اڑ گئے ہوش رکھ کے سر پر پاؤں      ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٨٥٩ )
٢ - بات کی ابتدا اور انتہا، آغاز اور خاتمہ۔
 بات کا سر پیر ہوتا ہے ضرور بات کاٹے جس کو ہوئے عقلی فتور      ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ١٣٥ )