اسلام

( اِسْلام )
{ اِس + لام }
( عربی )

تفصیلات


سلم  اِسْلام

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مسستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
١ - مسلمانوں کا مذہب، حضرت خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کیا ہوا دین جس کی بنیاد قرآن مجید اور سنت رسول پر ہے۔ (مجازاً) اسلام کے عقائد پر ایمان۔
"بعید نہیں کہ ایک بڑی تعداد انگریزوں کی مشرب بہ اسلام ہو جائے۔"      ( ١٩١٧ء، خطوط محمد علی جوہر، ٩ )
٢ - خدائے تعالیٰ کا دین حق جو عہد حضرت آدم سے آج تک برقرار ہے، خدا اور اس کے انبیا پر ایمان۔
"حضرت لوط نے دعا کی کہ بلا ابر پانی برسنے لگا سو بعض اسلام لائے اور بعضے منکر ہوئے۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ١، ٢٨٨ )
٣ - [ مجازا ]  مسلم، مسلمان۔
 یاد ہوں گے تجھ کو اے اسلام شاید وہ بھی دن جب ترے ہاں عہد خود نینی و خود رائی نہ تھا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٩ )
٤ - [ تصوف ]  ریاضیات شاقہ اور کسب اور نفس کشی اور ذکر اور شغل اور مراقبہ۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 33)
  • the Muhammadan religion;  orthodoxy (according to Muhammadan)