آثاریات

( آثارْیات )
{ آ + ثار + یات }
( عربی )

تفصیلات


اثر  آثاری  آثارْیات

عربی زبان کے لفظ 'اثر' کی جمع 'آثار' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'آثاری' اسم صفت بنا اور پھر عربی قاعدہ کے تحت 'ا ت' بطور لاحقۂ جمع لگانے سے 'آثاریات' بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٢٧ء میں "تاریخ یونان قدیم" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مذکر - جمع )
واحد   : آثاری [آ + ثا + ری]
١ - [ تاریخ ]  آثار قدیمہ کا علم یا اس سے متعلق امور۔
"پچھلے چند سالوں میں ماہرین آثاریات کی دیرینہ آرزو بالآخر پوری ہوئی۔"      ( ١٩٢٧ء، تاریخ یونان قدیم، ٣٢٢ )