بان[4]

( بان[4] )
{ بان + بان }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'بان' عام طور پر اسما کے ساتھ بطور لاحقۂ فاعلی مستعل ہے اور 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'بانی' بھی عام طور پر لاحقۂ اسم کیفیت کے طور پر استعمال ہو کر ترکیب میں کام آتے ہیں اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور ١٥٧٢ء کو "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ
١ - مترادف: صاحب، مالک، محافظ، دیکھ بھال کرنے والا، نگران، رکھنے والا، چلانے والے، ہنکانے والا وغیرہ، جیسے: باغبان، دید بان، شتربان، گاڑی بان وغیرہ۔
"وہ خود شتر بانی کرتا ہے۔"     "گھوسی رہپر شتربان شام کے وقت اپنے جانوروں کو دیکھ دیکھ کر آنکھوں میں نور دل میں سرور حاصل کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا (ترجمہ)، ٢١ )( ١٩٥٤ء، حیوانات قرآنی، ٤١ )