بندھنا

( بَنْدْھنا )
{ بَنْدھ (نہ غنہ) + نا }
( ہندی )

تفصیلات


ہندی زبان سے ماخوذ مصدر 'باندھنا' سے فعل لازم بنایا گیا ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل لازم اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - باندھنا کا لازم۔
"جو ایک بار ان سے بندھ گیا پھر وہ گویا ان کی جاگیر تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٨٢ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - کپڑا یا تھیلی وغیرہ جس میں کوئی چیز باندھی جائے۔
"ہاتھ پاؤں میں سرخ قند کے . جھم جھم کرتے ہوئے بندھنے باندھ دیے جو سلے رکھے تھے۔"      ( ١٩٧١ء، سہ ماہی، اردو نامہ، (قیصری بیگم)، ١٣٥:٣٨ )
٢ - رسی فیتہ تار وغیرہ جس سے کوئی چیز باندھی جا سکے، بندھن۔ (پلیٹس)۔