اسی

( اُسی )
{ اُسی }
( سنسکرت )

تفصیلات


اُس  اُسی

سنسکرت زبان کے لفظ 'تَسْیَ' جوکہ وہ کی اضافی حالت ہے، سے ماخوذ لفظ 'اس' کے ساتھ 'ہی' بطور لاحقۂ تخصیص لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٧٣١ء کو جعفرز ٹلی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم اشار بعید
جمع   : اِنْہی [اِن + نی]
جمع غیر ندائی   : اُنھوں [اُنھوں (و مجہول)]
١ - اس اور ہی کا مخفف، وہ ہی کی مفعولی حالت۔
'بیٹے کا دل اسی میں لگا رہا، مارے خوشی کے وہ رات بھر سویا بھی نہیں۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٧٩:٦ )
  • that very