مکڑا

( مَکْڑا )
{ مَک + ڑا }
( پراکرت )

تفصیلات


پراکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٤ء کو "ترجمۂ گلستان" کے حوالے سے "حسن علی خان" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف   : مَکْڑی [مَک + ڑی]
واحد غیر ندائی   : مَکْڑے [مَک + ڑے]
جمع   : مَکْڑے [مَک + ڑے]
جمع غیر ندائی   : مَکْڑوں [مَک + ڑوں (واؤ مجہول)]
١ - ایک ہشت پایہ حشرہ جو دیواروں اور چھتوں وغیرہ پر اپنے لعاب سے باریک باریک تاروں کا جالا تان کر رہتا ہے اور مکھیاں بھنگوں وغیرہ کو پھنسا کر کھاتا ہے مکڑی کا نر، بڑی مکڑی، مکڑ۔
"گھر پہنچا تو بیوی بچے مکڑے اور تکلے کی طرح نحیف اور لاغر ہو چکے تھے۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٦٤ )
  • عَنْکُبُوت
  • a large spider