جھلملانا

( جھِلْمِلانا )
{ جھِل + مِلا + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


جھلمل  جھِلْمِلانا

سنسکرت سے ماخوذ صنعت 'جھل مل' کے ساتھ 'انا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'جھلملانا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٥٤ء کو "ریاض غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - (ستارے وغیرہ کا) چمکنا یا روشن ہونا، جگمگانا (پانی وغیرہ کا روشنی کے عکس سے)، جھلکنا، لہرانا۔
"رات کے سناٹے میں تارے جھلملا رہے تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٥٢:٢ )
٢ - (چراغ کی لو کا) ٹھٹمانا، لرزنا، ماند یا دھندلا پڑنا، کم کم چمکنا۔
 داغ افسردہ ہو چلے دل کے جھلملائے چراغ محفل کے      ( ١٨٨٨ء، صنم خانۂ عشق، ١٩٢ )
٣ - [ مجازا ]  وقت آخر ہونا۔
 انہیں جو منظور دیکھنا ہے تو آکے ایسے میں دیکھ جائیں لیا سہارا مریض غم نے چراغ کچھ بجھ کے جھلملایا      ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، میخانۂ الہام، ٤٢ )