اشتقاق

( اِشْتِقاق )
{ اِش + تِقاق }
( عربی )

تفصیلات


شقق  اِشْتِقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال از مضاعف سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٥١ء کو 'ترجمۂ عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مذکر - واحد )
جمع   : اِشْتِقاقات [اِش + تِقا + قات]
١ - وضع، بناوٹ۔
'اسم کی قسمیں اشتقاق کے لحاظ سے نہیں کی جاتی ہیں۔"      ( ١٩١٧ء، قواعد اردو، ٢ (دیباچہ)، ٣ )
٢ - کسی مضمون سے دوسرا مضمون پیدا کرنا جو اسی سے ملتا جلتا ہو۔
 نکالے سیکڑوں مضموں سحر دم تحریر قلم نے جب سے قدم اشتقاق میں رکھا    ( ١٨٥٧ء، سحر (امان علی)، ریاض سحر،٨ )
٣ - شق کرنا، اخذ کرنا۔
'اشتقاق کیا حق سبحانہ نے اسم کریم حضرت کا اپنے ناموں میں سے۔"    ( ١٨٥١ء، ترجمۂ عجائب القصص، ١٥٠:٢ )
٤ - کسی نوع یا جس سے دوسری نوع یا جنس کا پیدا ہونا۔
'ڈارون کے بعد سے، اور اس کے نظریہ اشتقاق انواع کے نتیجے کے طور پر - انسان - حیوانوں ہی کی قسم سے ہیں۔"      ( ١٩٦٦ء، ماہنامہ، نصرت، فروری مارچ، ١٥ )
٥ - [ بدیع ]  ایک جملے یا شعر میں جو ایسے الفاظ لانا جن کا ماخذ ایک ہو، صنعت اشتقاق (یہ کلام کی ایک لفظی خوبی ہے)۔
'نارونور میں صفت اشتقاق و صنعت تضاد ہے۔"      ( ١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ١، ١٩ )
٦ - [ قواعد ]  کسی کلمے سے دوسرا کلمہ بنایا جانا یا بنانا، لفظ کی اصل، ماخذ، مادہ، تصریف یا گردان۔
'صاحب قاموس نے اس لفظ کے اصل و اشتقاق سے کچھ بحث نہیں کی۔"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٢٢٧:١ )
  • derivation
  • etymology