مٹیالا

( مَٹْیالا )
{ مَٹ + یا + لا }
( سنسکرت )

تفصیلات


مرتکا  مَٹّی  مَٹْیالا

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'مٹی' کے ساتھ 'الا' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٦٦ء کو "تہذیب الایمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
جمع   : مَٹْیالے [مَٹ + یا + لے]
١ - ملگجا، خاکستری، میلا، مٹی کے رنگ کا، مٹی جیسا، بھونسلا، بھورا، خاکی۔
"ہلکی پرت کے نیچے سے سڑی ہوئی کائی اور سیوار (ایک قسم کی گھاس) سے آلود کیچڑا اُچھل کر پانی کو مٹیالا کر گیا"      ( ١٩٩٧ء، قومی زبان، کراچی، جنوری ٧٠ )
٢ - مٹی کا بنا ہوا، مٹی کا؛ جیسے: گھر گھر مٹیالے چولھے ہیں یعنی سب کا ایک حال ہے، گلِ آلودہ، مٹی بھرا ہوا، مٹی میں لتھڑا ہوا۔ (فرہنگ آصفیہ)
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - ایک قسم کا سانپ جس کا رنگ بھونسلا اور جلد پر کالی کالی چتیاں ہوتی ہیں، مٹیار۔
"مٹیالا؛ طویا، کٹھان. اور نہ جانے کیا کیا نام بتاتے تھے"      ( ١٩٦٦ء، انجام، کراچی، ٢١ مٹی، ٤ )