جھولنا

( جُھولْنا )
{ جُھول + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


ہوالی  جُھولْنا

سنسکرت کے اصل لفظ 'ہوال ی' سے ماخوذ 'جھولنا' اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - ادھر سے ادھر جنبش کرنا، ادھر حالت میں ایک سمت سے دوسری سمت میں آنا جانا، جھونٹا لینا، ہلکورے کھانا، جھولے یا پنڈولے میں جھونکے لینا۔
 دیر ہوتی ہے بس اب بیٹھ بھی جاؤ اٹھ کر جلدی جھول آئیں گے بارش بھی کھڑی ہے سر پر      ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ١٩٥ )
٢ - آدھ بیچ میں رہ جانا، اٹک کر رہ جانا، لٹک جانا۔
"بسم اللّٰہ خاصی دھوم دھما سے مراد آباد میں ہو چکی تھی مگر ابھی تک قاعدہ ہی میں جھول رہی تھی"      ( ١٩٢٤، سراب عیش، ٢٧ )
٣ - مدت تک کسی ایک حالت میں رہنا۔
"بچپئے میں ہمیشہ مریل بھنکتے ہوئے روگیلے اور جھولتے رہے"      ( ١٩٢٣، عصائے پیری، ١٠٩ )
٤ - منڈلانا، اردگرد پھرنا، لوٹ لوٹ کر آنا۔
"چالیس روز تک رستم مرزا قلعہ پر جھولا کیا، پھر دونوں بھائیوں میں صلح ہو گئی"      ( ١٨٩٧، تاریخ ہندوستان، ٤٦٧:٨ )
٥ - (کسی امید میں) پڑا رہنا، پریشان رہنا۔
"کیا یہ مناسب ہے کہ. وہ اس قدر آپ کے ہاں امیدواری میں پڑے جھولا کریں"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٤١:١ )
٦ - جھومنا۔
 مستی ہست حلقے کے تھے بے شمار شبینے میں جھولتے تھے سو کے ہزار      ( ١٦٥٧ء، گلشن عشق، ٤٦۔ )
٧ - لٹکنا، آویزاں ہونا۔ (جامع اللغات)
  • to move or swing to and fro (as a fan);  to shake
  • put in motion
  • stir
  • agitate (as water)