مسمار

( مِسْمار )
{ مِس + مار }
( عربی )

تفصیلات


سمر  مِسْمار

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت اور گاہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )
١ - میخ، کھونٹی، پھول دار کیل، گل دار میخ۔
 اس گنج و مسمار سب توڑے تھے یہ کون و مکاں ہ نور و انوار      ( ١٨٧٤ء، جامع المظاہر، ٧٧ )
٢ - [ طب ]  بڑا مسا جس کا سرا مثل کیل کے پھول کے موٹا اور جڑ پتلی ہو۔ (ماخوذ: مخزن الجواہر، 806)
صفت ذاتی ( واحد )
١ - منہدم، تہس نہس، تباہ و برباد۔
 ایک فلک زاد جو معمار نظر آتا ہے ہر گھروندہ یہاں مسمار نظر آتا ہے      ( ١٩٩٥ء، سیپ (غلام محمد قاصر)، کراچی، اگست، ٢٠١ )