جھلکنا

( جھَلَکْنا )
{ جھَلَک + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


جھلک  جھَلَکْنا

سنسکرت سے ماخود اسم 'جھلک' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'جھلکنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٥ء، کو "جواہر اسرار اللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - چمکنا، دمکنا، روشن ہونا۔
 ذروں میں اڑ کے چمکا تاروں میں جا کے جھلکا جلوہ نظر نہ آیا پر شاید ازل کا    ( ١٩١٠ء، سرور جہاں آبادی، خمکدہ سرور، ١٧ )
٢ - کسی چیز کے اندر سے روشنی یا چمک ظاہر ہونا یا دکھائی دینا۔
"اتنا باریک نہ ہو کہو اسمیں سے بدن جھلکے۔"    ( ١٩١٦ء، معلمہ، ٣٢ )
٣ - ظاہر ہونا، نمودار ہونا، نمایاں ہونا، نظر آنا۔
 ٹھکرا کے برگ زرد کو چلنا نہیں روا اس انتہا میں دیکھ جھلکتی ہے ابتدا      ( ١٩٤٥ء، سنبل و سلاسل، ٢٦ )
٤ - جھل مل کرنا، جھلملانا، چمک نظر آنا۔
"چاند کی روشنی تیز ہوگی دریا کا پانی جھلکنے اور کڑم کڑم کرنے لگا۔"      ( ١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ٤٩٦ )
٥ - دور سے پانی کی چمک نظر آنا۔ (نور اللغات)
٦ - اچھلنا، کودنا، انداز دکھانا، چمک دمک دکھانا، زیب و زینت دکھانا۔
"اس محفل رقص و سرود میں ان کو جھلکنے کی جگہ مٹکانا تھرکنا چاہیے تھا۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٩، ٣:٣٧ )
٧ - (آنسو کا) نظر آنا۔
 سب کی آنکھوں میں جھلکتے ہیں جو اشک شادی نذر کے واسطے لایا ہے یہ گوہر نو روز      ( ١٩٢٨ء، سرتاج سخن، ٢٤ )