فعل لازم
١ - کسی بندھی ہوئی یا کَسی ہوئی چیز کا وا ہونا، کھُل جانا۔
"اگر رسّی کے کھلنے میں برائے نام بھی رکاوٹ ہو تو کشتی فوراً پلٹ جائے۔"
( ١٩٣٢ء، عالم حیوانی، ٨٣ )
٢ - کسی بند یا سر بند چیز کا باز ہونا، جیسے صندق کھلنھا، ڈبّا کھلنا۔
دل شکستہ کا مضمون لکھا تھا ہائے نصیب سو پرزے پرزے ہوا اس سے خط مرا نہ کھُلا
( ١٨٩٩ء، کلیاتِ نظام، ٨٦ )
٣ - ظاہر یا عیاں ہونا، آشکار ہونا، منکشف ہونا، سمجھ میں آنا، معلوم ہونا، واضح ہونا۔
منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھُلا
( ١٨٦٩ء، دیوان غالب، ١٦١ )
٤ - بخیہ یا سلائی ادھڑ جانا، سلائی کا ڈھیلا پڑ جانا، اُدھڑ جانا۔
میرے سرجن کا منہ پھر آج کچھ اترا ہوا سا ہے یقیناً کھل گیا ہے زخم دل کا پھر کوئی ٹانکا
( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٦٢ )
٥ - معما حل ہونا، کسی پیچیدہ یا مشکل بات کا سلجھنا، واضح ہو جانا۔
کھلتا نہیں ہے عارف ہے کہ معروف ہے وہ آپ اپنے مشاہدے میں مصروف ہے وہ
( ١٩٥٨ء، فکر جمیل، ٢٢٩ )
٦ - پھٹنا، دراڑ پڑنا، شگاف ہونا، دو ٹکڑے ہونا، ٹوٹ جانا۔
یوں ملا دل کو ایک نکتۂ راز جیسے زنداں میں کھل گیا روزن
( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ١٩ )
٧ - پھندے یا بندھن سے نکلنا، رسی تڑانا۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ)
٨ - شروع ہونا، جاری ہونا۔
"١٩٠٥ء میں یہ ریل کھل گئی۔"
( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٥٢ )
٩ - بہنے لگنا (نہر، نلکے وغیرہ کا) فرہنگ آصفیہ)۔
١٠ - حجاب دور ہونا، خاموشی دور کرنا، بے تکلف ہونا۔
"قطعات میں ان کی طبیعت زیادہ کھلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔"
( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٤:٣ )
١١ - چوڑا، وسیع یا فراخ ہونا۔
"جب کہ کمانی کچھ کھل جاوے گی اور گھڑی کی طاقت کچھ کم ہو جاوے گی اس وقت بند ہو جاوے گی۔"
( رسالہ معین گھڑی سازی، ٨ )
١٢ - بادل یا گھٹا کا چھٹنا، بارش تھمنا۔
آنسو تھے تو آنکھوں میں یہ بات ہوگئی میخانے جیسے کھُل گئے برسات ہوگئی
( ١٩٦٨ء، قمر حلالوی، رشک قمر، ١٥١ )
١٣ - چھوٹنا، رہا ہونا، آزادی حاصل کرنا، پابندی سے نجات پانا۔ (خصوصاً جانور کا)۔ (ماخوذ: نور اللغات، جامع اللغات)
١٤ - پھبنا، زیب دینا، سجنا، موزوں ہونا۔
منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھُلا
( ١٨٦٩ء، دیوان غالب، ١٦١ )
١٥ - بحال ہونا، سلسلہ جاری ہونا، اڑاؤ نکل جانا۔
کیا خبر تھی خوبی تقدیر کی آج بختِ حسرت و ارماں کھُلا
( ١٩٢٨ء، مرقع لیلٰی و مجنوں، ٥٧ )
١٦ - دروازے، قفل، پھندے یا کھٹکے وغیرہ کا وا ہونا۔
کلیدِ آہ سے قفلِ لبِ خاموش کھل جاوے توہ سر بستہ ہے پھر جو اپنے دل میں جوش کھل جاوے
( ١٨٠٩ء، کلیات جرات، ١٧٨ )
١٧ - گرہ سے جانا، کھویا جانا۔ (فرہنگ آصفیہ، پلیٹس، جامع اللغات)
١٨ - [ چوسر، شطرنج ] مہرے کا اپنے گھر سے چلنا، مہرے کے سامنے سے رکاوٹ دور ہونا۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات)۔
١٩ - روک یا قابو نہ رہنا، لگام نہ رہنا۔ (ماخوذ: فرہنگ اآصفیہ، جامع اللغات)
٢٠ - گھوڑے کا ہکنا، فروخت ہونا جیسے اس کے تھان سے آج کل چار گھوڑے روز کھلتے ہیں آج کل خوب کما رہا ہے۔ (فرہنگ آصفیہ)
٢١ - مہکنا، خوشبو دینا، معطر ہونا۔
تا دل کو نہ واشد ہو تو کیا لطف ملے ہائے کھلتی ہے جو بو غنچۂ گل کی تو کھلے پر
( ١٨٠٩ء، کلیات جرات، ٣٢٤:١ )
٢٢ - رونق یا جوبن پر آنا، نکھرنا۔
پانی نہیں ہوا ہے فقیری میں جس کا دل وہ آبرو پریت کے رنگ میں نہیں کھلے
( ١٧١٨ء، دیوان آبرو، ٦٧ )
٢٣ - کتاب، فہرست یا رجسٹر نکلنا۔
اے سواد عشق کھلتی ہے بیاض حسن بھی آنکھ دکھلانے سے اک جادو نظر آیا مجھے
( ١٨٦١ء، کلیات اختر، ٧٢٧ )
٢٤ - الگ یا جدا ہونا، علیحدہ ہونا۔
ہاتھ سے رکھ دی کب ابرو نے کماں کب کمر سے غمزے کی خنجر کھُلا
٢٥ - [ ہندو ] خیال بٹنا، چت اُچٹنا، جیسے سماد بھی کھلنا یا دھیان کھلنا۔ (ماخوذ فرہنگ آصفیہ)
٢٦ - جچنا، قرار پانا، موزوں ہونا۔
نزاکت اوس پری پیکر کی کھُلتی کبھی پھولوں میں تُلوایا تو ہوں
( ١٨٦١ء، کلیات اختر، ١٢٥ )
٢٧ - کلفت، کوفت یا انقباض کا دورہ ہونا۔
پابند خارِغم سے جو وہ گلبدن کھُلے بشاش صورتیں ہوں یہ رنج و صحن کھُلے
( ١٨٦١ء، کلیات اختر، ٧٢٤ )
٢٨ - جکڑن یا گرفتگی دور ہونا، نرمییا لچک پیدا ہونا۔
"برس بھر کے اکڑے ہوئے رگ پٹھے کھُلنا اور ازسرنو ان میں دورانِ خون ہونا آسان نہ تھا۔"
( ١٩٢٢ء، غریبوں کا آسرا، ٣٦ )
٢٩ - گویائی یا نطق ہونا، گویائی بڑھ جانا۔ (فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات)
٣٠ - زبانی کچھ کہا جانا، دعایا بددعا نکلنا۔
کہاں تک پہنچی دعا اجابت کو امیر ہائے ہماری زبان ہی نہ کھُلی
( ١٨٨٨ء، صنم خانۂ عشق، ٣٣١ )
٣١ - کسی چیز کو چلانے کے لیے بندش یا روک وغیرہ کا دور کیا جانا، چلنا، جاری ہونا۔
"بنارس کی گاڑی کھلنے میں آدھ گھنٹے کی دیر تھی۔"
( ١٩١٦ء، بازار حسن، ٢٦٠ )
٣٢ - طے ہونا، قرار پانا۔
"لڑکی کی نسبت ابھی تک نہیں کھُلی۔"
( ١٩٧٧ء، مہذب اللغات، ١٧٥:١٠ )
٣٣ - [ تجارت ] بولی لگانا، کسی دام سے بڑھ کر بولی دینا۔
"ڈیڑھ ہزار کی آنٹ جوہری لگا گیا ہے کوئی اس سے بڑھ کر دے تو کھل سکتی ہے۔"
( ١٩٧٥ء، لغت کبیر، ١، ٥٧:٢ )