فعل لازم
١ - کلی کا پھولنا یا شگفتہ ہونا، کلی کا پھول بننا، پھول آنا۔
"کسی کا دل کے کھِلنے اور مرجھانے کے انقلابات میں اسیر ہے۔"
( ١٩١٣ء، انتخاب توحید، ٤٥ )
٢ - [ مجازا ] ہنسنا، خوش ہونا۔
جھونکوں میں خزاں کے کھل رہا ہوں گلشن میں کہاں جواب میرا
( ١٩٤٩ء، نبض دوراں، ٣٨٢ )
٣ - نکھرنا، سنورنا۔
باتی ہے تری گلشن طرازی بہاروں کی زمیں تجھ سے کھلی ہے
( ١٩٨٤ء، سمندر، ٢٦ )
٤ - چاول یا دال پکنے کے بعد چھٹکا ہوا یا پھریرا ہونا۔
"چاول کھلے ہوئے رہیں"
( ١٩٤٧ء، شاہی دستر خوان، ١٢٣ )
٥ - بھربھرایا خستہ ہونا۔ (فرہنگ آصفیہ)
٦ - مکان اور دیوار کا شق ہونا، مکان پھٹنا، مکان میں شگاف پڑنا۔
"جس گھر میں رہتے تھے اس کی جڑ میں پانی مرنے لگا اور وہ بالکل کھل گیا۔"
( ١٩٦٣ء، گنجینۂ گوہر، ١٨٦ )
٧ - روشنی یا چاندنی پھیلنا، تاروں کا روشن ہونا۔
"ایسا ہی اثر رکھتا ہے جیسے شام کو. تاروں کا کھلنا۔"
( ١٩١٦ء، دیوان نظم طبا طبائی (مقدمہ)، )
٨ - سرور ہونا،۔ نشے کا گہرا ہونا۔
ساقیا کیا تیز تھی کھلتے ہی نشہ کھل گیا ہوش کہتے ہیں جسے بوتل کا گویا کاک تھا
( ١٨٩٥ء، دیوان راسخ دہلوی، ٢٩ )
٩ - زیب دینا، پھبنا، نمایاں ہونا۔
"ساڑھی ان پر کتنی کھلتی ہے۔"
( ١٩٦٧ء، یادوں کے چراغ، ٨٨ )
١٠ - بالوں کا نکھرنا۔ (فرہنگ آصفیہ)
١١ - ٹکڑے ٹکڑے، پارہ پارہ یا کھِیل کھِیل ہونا۔ (فرہنگ آصفیہ)
١٢ - اناج کا بھن کر پھول بننا یا چھلکا چٹخنا۔
یوں دل ہمارا عشق کی آتش میں خوش ہوا بھن کر تمام آگ میں کھلتا ہے جوں چنا
( ١٧١٨ء، دیوان آبرو، ٩ )