نرمانا

( نَرْمانا )
{ نَر + ما + نا }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی سے اردو میں دخیل اسم صفت 'نرم' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'انا' بطور لاحقہ مصدر بڑھانے سے 'نرمانا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٨٠ء کو "کلیاتِ سودا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - نرم ہونا، ہلکا ہونا؛ فرحت بخش ہونا۔
 اس کی خفگی جاڑے کی فرماتی دھوپ پارو سکھی اس حدت کو ہونس کھیل کے سہ      ( ١٩٧٦ء، خوشبو، ٥١ )
فعل متعدی
١ - نرم کرنا، گداز کرنا، سخت گیری کرنا، رحم پر مائل کرنا (عموماً دل کے لیے مستعمل)۔
"کام دیو کی بیوی رتی نے شو کے دل کو آخر قدرے نرما ہی دیا۔"      ( ١٩٩٠ء، بھولی بسری کہانیاں، بھارت، ٤٥٢:٢ )
٢ - پگھلانا، کسی سخت چیز کو نرم کرنا۔
"پونیوں سی پوریں سختی سے جمی ہوئی پرتوں کو نرماتی ہی رہیں، آہستہ آہستہ۔"      ( ١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، جون، ٧٢ )
٣ - کم کرنا، دھیما کرنا، گھٹانا (قیمت وغیرہ)۔
"ان کا فن اور فکر اشتراکیت کو نرمانے اور سرمایہ داری میں جمہوریت کی پرورش کرنے والا ہے۔"      ( ١٩٩٦ء، ارمغانِ عالی، جمیل الدین عالی فن اور شخصیت، ٣٥٨ )