عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب تفاعل کے وزن پر مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٩٠ء کو "معلم السیاست" میں مستعمل ملتا ہے۔
"خلافت ثانی کے واقعات پیش نظر رکھ کر جو دور حاضرہ روبرو آتا ہے تو یہ تقابل چشم بینا کے واسطے خنجر آبدار بن کر کلیجے کے پار ہوتا ہے۔"
( ١٩١٢ء، شہیدِ مغرب، ٧٢ )
٢ - [ نجوم ] دوستاروں کے درمیان چھ برجوں کا فاصلہ ہونا۔
"اس صورت میں بہ وضع تقابل روز گزشتہ کے یعنی جس طرح پر آفتاب سے کل کے دن مقابل تھی ایک سالم دورے سے کچھ زیادہ کرنی چاہیے۔"
( ١٨٣١ء، ستہ شمسیہ، ٨٣:٢ )