نسوانی

( نِسْوانی )
{ نِس + وا + نی }
( عربی )

تفصیلات


عربی اسم 'امرات' کی خلاف قیاس جمع 'نسواں' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقہ نسبت بڑھانے سے 'نسوانی' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٩٢٤ء کو "بانگِ درا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت نسبتی
١ - نِسواں سے منسوب، نسواں کا، عورتوں کا، عورتوں سے متعلق۔
"عصمت چغتائی کے بیشتر نسوانی کرداروں کے پس منظر میں ایک ایسی عورت موجود ہے۔"      ( ١٩٩١ء، ساختیات اور سائنس، ٧٠ )