زنانہ

( زَنانَہ )
{ زَنا + نَہ }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - عورت کے لیے مخصوص۔
"آپ زنانہ لٹریچر کا بہ غور اور غیر متعصبانہ مطالعہ کر لیجیے بہت سی خواتین ایسی نظر آئیں گی جن کی نظم و نثر اکثر ادباء شعراء کے ہم پلہ ہیں۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ١٥٤ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - وہ مرد جو عورتوں کا لباس پہنے اور انہیں کی سی حرکتیں کرے، ہیجڑا، زنخا۔
 کہاں سے آئے گا بیٹوں میں عسکری جوہر کہ ہیں زنانوں سے بد تر یہ فیشن ایبل باپ      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٦٩ )
٢ - پردہ نشین عورتوں یا صرف عورتوں کے رہنے کا مکان یا مکان کا وہ حصہ جو عورتوں کے لیے مخصوص ہو، زنان خانہ، حرم سرا۔
"ہر روز ٩، ١٠ بجے کے قریب اس کوٹھی میں اپٹے ٹانگے میں آتے اور بے تکلفی سے سیدھے زنانے میں چلے جاتے۔"      ( ١٩٧٧ء، اقبال کی صحبت میں، ٤٥ )
٣ - پردہ دار عورتیں، نیز صرف عورتیں۔
"بڑے صاحب آپ کہاں گھر میں جا رہے ہیں وہاں زنانہ ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ٢٤٣:٦ )
  • female
  • feminine;  womanly;  effeminate;  an effeminate person
  • a woman;  a eunuch (an individual of a class whose occupation is singing and dancing);  women's apartments
  • seraglio
  • harem;  women
  • wives