نجومی

( نُجُومی )
{ نُجُو + می }
( عربی )

تفصیلات


نُجُوم  نُجُومی

عربی زبان سے اسم جامد 'نجم' کی عربی جمع 'نجوم' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقہ نسبت بڑھانے سے 'نجومی' بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٨٢ء کو رضوان شاہ و روح افزا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت نسبتی ( واحد )
جمع غیر ندائی   : نُجُومِیوں [نُجُو + مِیوں (و مجہول)]
١ - علم نجوم کا ماہر، جوتشی، ستاروں کا چالیں پڑھ کر حالات بتانے والا شخص، منجم۔
"زمانے کے خم و پیچ کسی نجومی کے بس کے نہیں ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، اقبال کا نظامِ فن، ٣١٧ )
٢ - نجوم سے متعلق، ستاروں کا۔
 پھر بھی رہ جائیں نہ باقی وہ نجومی فاصلے میرے تیرے درمیاں جو سالہا قائم رہے      ( ١٩٦٩ء، لا (انسان)، ١٤٥ )
اسم معرفہ ( مؤنث - واحد )
١ - ستاروں کے متعلق علم، منجمی۔
"یہ پیشۂ امتیازی صاحب مروت لوگوں کا ہے پر اس میں سے ذی شان تین قسم ہیں . دوسری جو علم و ادب سے متعلق ہو جیسے کتاب اور لیاقت اور نجومی۔"      ( ١٨٠٥ء، جامع الاخلاق، ٢٠١ )