محاکمہ

( مُحاکَمَہ )
{ مُحا + کمَہَ }
( عربی )

تفصیلات


حکم  مُحاکَمَہ

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٨٥ء، کو "فسانۂ مبتلا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : مُحاکَمے [مُحا + کَمے]
جمع   : مُحاکَمے [مُحا + کَمے]
جمع استثنائی   : مُحاکَمات [مُحا + کَمات]
جمع غیر ندائی   : مُحاکَموں [مُحا + کَموں (و مجہول)]
١ - قضیہ طے کرانے یا کسی بات کے فیصلے کے لیے حاکم کے پاس جانا، انصاف طلبی۔
"عرض میری اور علی حزین کی غزل خواجہ عزیز الدین صاحب عزیز مصنف قیصر نامہ اور نیر دہلوی کے پاس بغرض محاکمہ ارسال کی گئی"۔      ( ١٨٨٤ء، مکاتیب شبلی، ٧١:١ )
٢ - منصف یا حاکم بن کر جھگڑا نپٹانا یا فیصلہ صادر کرنا۔
"ہم کسی فنی تخلیق پر کوئی محاکم کرتے ہیں تو اس اثر کی بنا پر جو ہمارے خالص اور زندہ جذبات پر پڑا ہو"      ( ١٩٨٦ء، فکشن، فن اور فلسفہ، ٢٥ )
٣ - [ تنقید ]  مقابلہ و موازنہ، تقابلی مطالعہ
"سب اس کا مقدمہ ہو یا تذکرہ گلشن ہندیا مقدمۂ قطب مشتری . وہ (مولوی عبد الحق) ہر جگہ محاکمہ و فواز نہ اور استخراج نتائج کی ذکاوت سے بہرہ ور نظرآتے ہیں"      ( ١٩٩٨ء، قومی زبان، کراچی، اگست، ٧١ )