تبادلہ

( تَبادِلَہ )
{ تَبا + دِلَہ }
( عربی )

تفصیلات


بدل  تَبادِلَہ

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٩٣٠ء کو "چند ہم عصر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : تَبادِلے [تَبا + دِلے]
جمع   : تَبادِلے [تَبا + دِلے]
جمع غیر ندائی   : تَبادِلوں [تَبا + دِلوں (و مجہول)]
١ - ایک شے کی دوسری سے تبدیلی، کچھ دے کر کچھ لینے کا عمل، مبادلہ، عوض، معاوضہ، بدل۔
کتاب کے تبادلے میں دس روپے ملے۔ٔ      ( ١٩٤٦ء، نوراللغات )
٢ - کسی سرکاری ملازم کا ایک جگہ یا ایک شہر سے دوسری جگہ یا دوسرے شہر میں متعین کیا جاتا، تبدیل۔
"بعدازاں کہ ان کا تبادلہ سہارنپور ہو گیا۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٧ )