تبارک

( تَبارَک )
{ تَبا + رَک }
( عربی )

تفصیلات


برک  تَبارَک

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں من و عن داخل ہوا بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے ١٩٠٥ء کو "رسوم دہلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مؤنث - واحد )
١ - قرآن شریف کی ایک سورت جس سے انتیسواں پارہ شروع ہوتا ہے۔
"کم سے کم (٤١) مرتبہ سورۃ تبارک پڑھوا کر مردے کی ارواح کو ثواب پہنچاتے ہیں۔"      ( ١٩٠٥ء، "رسوم دہلی" سید احمد ١٢١ )
٢ - مسلمانوں کی ایک مذہبی رسم جو ماہ رجب میں مردے کی مغفرت کے لیے ادا کی جاتی ہے، اس رسم میں سورہ تبارک الذی اکتالیس بار پڑھ کر اکثر میٹھی روغنی روٹی تقسیم کی جاتی ہے جس پر سونف کلونجی وغیرہ لگی ہوتی ہے یا کوئی شیرینی بانٹی جاتی ہے۔
"چوتھے جمعے کو مردے کی تبارک ہوتی ہے۔"      ( ١٨٨٥ء، "بزم آخر" ٦٠ )
صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
١ - بڑا، بزرگ، عالی۔
 خیر کثیر کے ہیں طالب اے رب تبارک و تعالٰی      ( ١٩٦٢ء، "کلک موج" ٣٧ )