جہاز

( جَہاز )
{ جَہاز }
( عربی )

تفصیلات


جہز  جَہاز

ثلاثی مزید فیہ کے باب سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی مہم کی تیاری ہوتے ہیں اردو میں سب سے پہلے "قطب مشتری" میں ١٦٠٩ء میں استعمال ہوا۔ اب اردو میں بطور اسم نکرہ رائج ہو چکا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - [ مجازا ]  بہت بڑا، بہت وسیع۔
٢ - [  - مجازا ]  نشئی، بھنگی، چرسی، نکوٹین یا مارفیا وغیرہ کا عادی۔
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : جَہازوں [جَہا + زوں (و مجہول)]
١ - بحری سفر کرنے یا مال لانے یا لے جانے یا جنگی مقاصد میں کام آنے والی بہت بڑی کشتی۔
 ایسے محل پہ دوستو رخنہ گری ہے خودکشی ہم بھی اسی جہاز میں تم بھی اسی جہاز میں    ( ١٩٢٩ء، دیوان صنفی، ٩٦ )
٢ - ہوائی جہاز، طیارہ۔
"صبح جہاز روانہ ہو گیا اور یہ چاروں بھی اڑ گئے"۔    ( ١٩٥٨ء، چشمہ، ٥٧٤ )
٣ - [ قدیم ]  جہیز۔     
"اپنی دامادی میں افتخار بخشا اور بہت سا سامانِ جہاز جو لائق سلاطین . کے تھا عنایت . کیا"     رجوع کریں:  جہیز ( ١٨٤٧ء، حملاتِ حیدری، ١٤٣ )
٤ - [ سائنس ]  جاندار کے جسم کا سامنے کا حصہ جس میں سینہ اور پیٹ شامل ہیں۔
"سامنے کا جہاز بذریعہ ایک عضلاتی پردہ کے جس کو انگریزی میں ڈایافرام اور لاطینی میں ویا فرانما بولتے ہیں دو جہازوں میں منقسم ہے ایک صدر اور دوسرے بطن"۔      ( ١٨٧٧ء، رسالہ علم فزیالوجی، ٩ )
٥ - اونٹ کی زین کا اونچا حصہ، زین اور متعلقہ سامان۔