بازیچہ

( بازِیچَہ )
{ با + زی + چَہ }
( فارسی )

تفصیلات


باختن  بازی  بازِیچَہ

فارسی زبان میں مصدر باختن سے حاصل مصدر 'بازی' کے ساتھ ترکی زبان سے ماخوذ لاحقۂ تصغیر 'چہ' لگنے سے 'بازیچہ' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ مرکبات میں بطور سابقہ بھی مستعمل ہے۔ ١٨٠١ء میں "باغ اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : بازِیچے [با + زی + چے]
جمع   : بازِیچے [با + زی + چے]
جمع غیر ندائی   : بازِیچوں [با + زی + چوں (و مجہول)]
١ - (لفظاً) کھیل، تماشا (مجازاً) آسان کام۔
 حریف اس رہ نوردی کو مگر بازیچہ سمجھے ہیں ہزاروں منزلیں چلنا ہے اپنے سے سفر کرنا      ( ١٩١٩ء، رعب، کلیات، ٥٥ )
٢ - کھلونا۔
 آہ تھا فطرت بیباک کا انجام یہی کر دیا شوق نے بازیچۂ تقدیر مجھے      ( ١٩٤٠ء، بیخود موہانی، کلیات، ٨٦ )
٣ - بازی گاہ۔
 وا دیدۂ حق بیں ہو حقیقت کی خبر ہو بازیچۂ فانی میں دوبارہ نہ گزر ہو      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٦٠ )
  • toy
  • plaything