لعاب دار

( لَعاب دار )
{ لَعاب + دار }

تفصیلات


عربی زبان سے مشتق اسم 'لعاب' کے بعد فارسی مصدر 'داشتن' سے صیغہ امر 'دار' بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٥ء کو "خطوط غالب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - چپچپا، لجلجا، لیس دار، چیپدار، شوربے دار۔
"میں نے اس کے لعاب دار گوشت کا خوردبینی معائنہ کیا ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، چوراہا، ١٦١ )
٢ - [ مجازا ]  چکنا، لچک دار کاغذ۔
"کاغذ. لعاب دار ہو۔"      ( ١٨٨٥ء، خطوط غالب، ٢٣٤ )
  • چِیپ دار