آرا

( آرا )
{ آ + را }
( سنسکرت )

تفصیلات


یہ اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے، فارسی میں 'ارّہ' مستعمل ہے قیاساً یہ بھی سنسکرت ہی سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء، میں قلی قطب شاہ کے "کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم آلہ ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف   : آری [آ + ری]
واحد غیر ندائی   : آرے [آ + رے]
جمع   : آرے [آ + رے]
جمع غیر ندائی   : آروں [آ + روں (واؤ مجہول)]
١ - ایک ہلالی شکل کا دندانے دار آہنی اوزار جس کے دونوں سروں پر لکڑی کا دستہ ہوتا ہے اور جس کو دونوں طرف سے دو آدمی پکڑ کر موٹی کڑیاں چیرتے ہیں۔
 درخت بید مجنوں کاٹتا ہے دشت میں مجنوں ملا ہے کیا اسے آرا مرے چاک گریباں کا      ( ١٩٣٨ء، ظریف، ک، ٥:١ )
٢ - پیّے کے گھیرے اور مرکزی حصے کے درمیان لگی ہوئی لکڑی یا لوہے کی سلاخ، تان، اسپوک۔
"گاڑی پر سے کودے اور پہیے کے اندر ہاتھ ڈال کر آرے کو پکڑ لیا۔ گھوڑا بھڑکا، گاڑی ہل نہ سکی۔"      ( ١٩٣٦ء، ہنرمندان اودھ، ١١٥ )
٣ - تنور سے روٹی نکالنے کا آلہ، لوہے کی سلاخ جس کا سرا چوڑا ہوتا ہے اور جو روٹی کو تنور سے جدا کرتا ہے۔ (نوادر الفاظ، 21)
٤ - موچی کی آر، ستاری، ستالی، رانپی۔ (پلیٹس))
١ - آرا پھرنا
(لفظاً) (جسم) کا چیرا جانا، (مجازاً) سخت سے سخت اذیت و تکلیف میں مبتلا ہو جانا۔"گردن پر آرہ بھی پھر جائے کبھی ارادہ کو تبدیل نہ کریں گے۔"      ( ١٩٢٧ء، انتخاب لاجواب، ٢٨ مئی، ٦ )
٢ - آرا چلانا
(لفظاً) آرے سے چیرنا (مجازاً) بے حد ظلم کرنا، زیادتی کرنا۔ (نوراللغات، ٦٨:١)حرام کاروں کے سروں پر زندہ آرے چلا دے۔      ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ٩٣ )
٣ - آرا چلنا
آرا چلانا کا فعل لازم۔ فرقت میں نکل جائے دم آخر یہ کہاں تک آرا سا مِری جان پہ چلتا ہی رہے گا      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٢١ )
١ - آرے سر پر چل گئے تو بھی مدار ہی مدار
تکالیف و مصائب برداشت کرنے پر بھی اپنے ارادے اور عقیدے سے باز نہیں آئے۔ (نجم الامثال، ٢، قصص الامثال، ١٨)
  • spoke of a wheel;  a saw;  a shoe-maker's knife or awl