پارچہ

( پارْچَہ )
{ پار + چَہ }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی میں لفظ 'پارہ' کے ساتھ لاحقۂ تصغیر 'چہ' لگانے سے اسم بنا۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٩ء میں "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مصغر ( مذکر - واحد )
واحد ندائی   : پارْچے [بار + چے (ی مجہول)]
واحد غیر ندائی   : پارْچے [پار + چے]
جمع   : پارْچے [پار + چے]
جمع استثنائی   : پارْچَہ جات [پار + چَہ + جات]
جمع غیر ندائی   : پارْچوں [پار + چوں (و مجہول)]
١ - ٹکڑا، حصہ، جزو، قاش، پارہ، قطعہ۔
 تیغ کہتے ہیں جسے اک پارچہ آہن کا ہے شرط ہے انصاف، خامے سے اِسے نسبت ہے کیا      ( ١٩١٨ء، سحر (سراج منیر خان) بیاض سحر، ١٠١ )
٢ - کپڑا۔
 بدیشی پارچے میں آگ کیوں حضرت لگاتے ہیں وہ بولے بات تو یہ ہے کہ صاحب کو جلاتے ہیں      ( ١٩٢١ء، اکبر، گاندھی نامہ، ٦١ )
٣ - (گوشت مچھلی وغیرہ کا) ٹکڑا، کباب کے لئے مخصوص طریقے سے تراشا ہوا قطعہ۔
"اچھے گوشت کے پارچے سیخوں پر چڑھائے۔"      ( ١٩٠٢ء، آرائش محفل، حیدری، ١٦٠ )
٤ - پوشاک؛ لباس کے وہ حصے یا جزو جو خلعت میں شامل ہوتے تھے۔
"پانچ پارچے اور تین رقوم جواہر کا خلعت عطا ہوتا تھا۔"      ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ٤ )
٥ - اخبار یا رسالے کا شمارہ، پرچہ۔
 جو پارچے کوئی پوچھے تو ایک سو اڑتالیس کہیں قبول کے اعداد جن کو صاحب ہوش      ( ١٩٠٠ء، امیر مینائی، مراۃ الغیب، ٢٨ )