بدر

( بَدْر )
{ بَدْر }
( عربی )

تفصیلات


بدر  بَدْر

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں 'قلی قطب شاہ' کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
جمع استثنائی   : بُدُوْر [بُدُوْر]
١ - چودھویں رات کا چاند، پورا چاند۔
 جب تک رہے جہاں میں عروج و زوال مہر جب تک ہلال بدر ہو اور بدر ہو ہلال      ( ١٩٤٠ء، بے خود موہانی، کلیات، ١٥١ )
٢ - مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر ایک مقام نیز ایک کنویں کا نام جہاں کفار قریش سے آنحضرت صلعم نے سب سے پہلا جہاد فرما کر فتح پائی تھی (اور ابوجہل اسی جہاد میں مارا گیا تھا)، جنگ بدر، غزوۂ بدر۔
 یہ اطمینان کامل دیکھ کر کفر اور جھلایا دلوں کی تیرگی نے بدر کے داغ اور چمکائے      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خاں، ٥٣ )
  • moon