بغل

( بَغَل )
{ بَغَل }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء میں قطب مشتری میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : بَغَلیں [بَغَلیں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : بَغَلوں [بَغَلوں (واؤ مجہول)]
١ - سانے کے نچلے حصے کا گڈھا جو بازو کے اندرونی حصے سے ڈھکا رہتا ہے، کانکھ۔
'بغل کے نیچے ہو جانے والے اورام سخت خنازیری قسم کے ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٩٥ )
٢ - پہلو، گود۔
'مرد نے اس کی بغل میں بیٹھتے ہوئے کہا 'جناب عشرت جہاں بیگم صاحبہ آپ اس کی صورت پر نہ جائیں۔"      ( ١٩٥٤ء، شایدکہ بہار آئی، ٦ )
٣ - انگرکھے کرتے اچکن اور شیروانی وغیرہ کی آستین اور کلیوں کے درمیان سلا ہوا چوکور ٹکڑا۔
'جامے وار کی چپکن پردہ کھلا ہوا کلابتوں کا ساز آستین اور بغل کٹی ہوئی۔"      ( ١٩٣٣ء، دلی کی چند عجیب ہستیاں، ١١ )
متعلق فعل
١ - ایک طرف، کنارے، علیحدہ۔
'میاں اکے والے ذرا بغل ہو جاؤ تو گاڑی نکل جائے۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٦٤٤:١ )
٢ - (دائیں بائیں) جانب، طرف۔
'اس کی بغلوں میں دو دو کھڑکیاں جن کی چوکھٹیں سنگ سرخ کی۔"      ( ١٨٦٤ء، تحقیقات چشتی، ٨٥٥ )
  • on one side
  • aside
  • out of the way;  by the side (of)
  • close by