بن

( بَن )
{ بَن }
( سنسکرت )

تفصیلات


ون  بَن

سنسکرت میں اصل لفظ 'ون' ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'بن' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء میں 'پھول بن' میں مستعمل ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : بَنوں [بَنوں (واؤ مجہول)]
١ - وہ جگہ جہاں بہت سے خود رو درخت ہوں، جنگل۔
 بھیڑیوں کے غول پھرتے تھے بنوں میں چیڑ کے تاکہ جو مل جائے واں آوارۂ دشت بلا      ( ١٩٠٥ء، کلیات نظم حالی، ٢٧:٢ )
٢ - میدان، بیابان (جہاں کوئی درخت نہ ہوض۔
 کوئی مقام نظر آ گیا جو بن کا سا کہا جنون نے یہ ہے مرے وطن کا سا      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٦١ )
٣ - مرغزار، سبزہ زار، سرسبز علاقہ۔
 پھر بہار آگئی گھر میں الجھی ہوئی پھر بڑھی بیخودی دھن لگی دشت کی اف یہ جوش جنوں اف یہ گرمی یہ خوں پھول کھلنے لگے آگ بن میں لگی      ( ١٩٥١ء، آرزو، ساز حیات، ٣٠ )
٤ - کپاس کا پودا، کپاس۔
'کپاس کہ اسے بن اور نرما بھی بولتے ہیں۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ٧٧ )
  • forest
  • jungle
  • wood
  • grove
  • copse
  • brake;  cotton-field;  cotton crop