پشتہ

( پُشْتَہ )
{ پُش + تَہ }
( فارسی )

تفصیلات


پُشتہ  پُشْتَہ

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٦٥ء کو 'راگ مالا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : پُشْتے [پُش + تے]
جمع   : پُشْتے [پُش + تے]
جمع غیر ندائی   : پُشتوں [پُش + توں (و مجہول)]
١ - دیوار منڈیر کی جھوک روکنے کے لیے اس کی پشت سے ملا کر سلامی دار (ڈھالو) چُنا ہوا پاکھایا پایا یا چبوترہ ساجو دیوار اور فرش کے جوڑ پر اس غرض سے بناتے ہیں کہ پانی گر کر بہہ جائے اور بنیادوں میں جذب نہ ہو۔
'جب ایک پشتہ تیار ہو چکے تو ایک دو روز کے فاصلے سے مٹی کا لیوا اس پر چڑھایا جائے۔"      ( ١٩٢٠ء، رسائل عمادالملک، ١٩٦ )
٢ - وہ دیوار یا بند یا مینڈ جو دریا وغیرہ کا پانی روکنے کے لیے بنا دیتے ہیں۔
'غدر کے طوفان نے ادبِ اردو کا پُشتہ پھر توڑا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٩:٣ )
٣ - [ مجازا ]  چبوترا، پلیٹ فارم۔
'لنگرگاہ تو بہت عمدہ ہے، مگر مال اتارنے کے پُشتے کم ہیں۔"      ( ١٩١٣ء، تمدنِ ہند، ٢٣ )
٤ - ڈھیڑ، انبار(بیشتر بطور جمع مستعمل)
 کشتوں کے پشتے لگے ہیں لاشوں کے انبار ہیں پانوں رکھنا کوچۂ قاتل میں مشکل ہو گیا    ( ١٨٩٤ء، مرقع زیبا، ٢٣ )
٥ - پہاڑی، ٹیلا۔ (جامع اللغات، 88:2)
٦ - بنڈل، پشتارہ، بوجھ۔ (پلیٹس)
٧ - وہ چمڑا یا کپڑا جو کتاب کی جلد کی پشت پر چڑھاتے ہیں، نیز کتاب کا پٹھا؛ گتے کا کٹا ہوا ٹکڑا۔
'اخبار عربی کی فائل جو مجلد ہے لیتے آنا، اس کے پشتہ پر 'نجلہ' لکھا ہوا ہے۔"      ( ١٨٩٢ء، مکتوباتِ حالی، ١٥١:٢ )
  • Prop;  support;  buttress;  bank;  glacis;  dike;  embankment;  quay;  mound;  hill;  eminence;  heap;  load;  bundle