بھونڈا

( بھونْڈا )
{ بھوں (واؤ مجہول) + ڈا }
( سنسکرت )

تفصیلات


بھےپرد  بھونْڈا

سنسکرت کے لفظ 'بھے پرد' سے ماخوذ اردو مستعمل 'بھونڈ' کے ساتھ 'الف' بطور لاحقۂ صفت لگنے سے 'بھونڈا' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٨٩٧ء میں "یادگارغالب" میں مستعمل ملتا ہوں۔

صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف   : بھونْڈی [بھوں (واؤ مجہول) + ڈی]
واحد غیر ندائی   : بھونْڈے [بھوں (و مجہول) + ڈے]
جمع   : بھونْڈے [بھوں (و مجہول) + ڈے]
تفضیلی حالت   : بھونْڈوں [بھوں + ڈوں (واؤ مجہول)]
١ - بدنما، بد وضع۔
"اصلاح دے تو اچھی بچھی چیز کا ناس کر بھونڈا بنا دے"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٣٠ )
٢ - نازیبا، معیوب، ناپسندیدہ۔
"بادشاہ نے اس کا خاندانی نام بھونڈا سمجھ کر اس جدید نام سے موسوم کر دیا ہو گا"      ( ١٩٥٦ء، بیگمات اودھ، ١٩٨ )