پوٹا

( پوٹا )
{ پو (و مجہول) + ٹا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پٹ+کہ  پوٹا

سنسکرت میں لفظ 'پٹ + کہ' سے ماخوذ 'پوٹا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : پوٹے [پو (و مجہول) + ٹے]
جمع   : پوٹے [پو (و مجہول) + ٹے]
جمع غیر ندائی   : پوٹوں [پو (و مجہول) + ٹوں (و مجہول)]
١ - تھیلی جو پرندے کی گردن کی جڑ میں سینے کے سرے پر ہوتی ہے جہاں غذا جمع ہوتی اور آہستہ آہستہ سنگ دانے میں جاتی ہے۔
'ایک کی لات ایسی بھرپور پڑتی کہ دوسرے کا پوٹا پھٹ جاتا۔"    ( ١٩٦٢ء، ساقی، ٦٥ | ٤٢:١ )
٢ - (مجازاً) انسان کا پیٹ، (طنزاً) کھاؤ کا بڑا پیٹ، معدہ۔
'آج یاروں کو مقتدا بناؤ پوٹا تر کراؤ۔"    ( ١٩٢٤ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ٤٣:٩، ٦ )
٣ - حوصلہ، سمائی، گنجائش، بساط، حیثیت، مجال، قدرت و طاقت۔
'تمھارا کیا پوٹا ہے جو ایسا کام کرو گے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ١٢٤:٢ )
٤ - پپوٹا، پلک۔ (پلیٹس)۔
٥ - انگلی کا آخری چھور، انگلی کی گھائی۔ (ماخوذ : شبدساگر)۔
٦ - ناک سے نکلنے والی رینٹھ۔ (پلیٹس)۔
  • (of bird) crop
  • craw
  • gizzard
  • stomach
  • capacity status
  • fledgling
  • young child