پودا

( پَودا )
{ پَو (و لین) + دا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پاد+پہ  پَودا

سنسکرت میں اسم 'پاد + پہ' سے ماخوذ 'پودا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٥ء کو 'کلیاتِ اکبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : پَودے [پَو (و لین) + دے]
جمع   : پَودے [پَو (و لین) + دے]
جمع غیر ندائی   : پَودوں [پَو (و لین) + دوں (و مجہول)]
١ - بوٹا، چھوٹا درخت۔
'قاضی شہاب الدین دولت آبادی یہ پودا دلی سے لائے تھے۔"      ( ١٩٤٣ء، حیاتِ شبلی، ١١ )
٢ - پھندنا جو بلبل کی پیٹی میں باندھ دیتے ہیں۔ (نوراللغات؛ علمی اردو لغت)۔
٣ - باگ کا وہ حصہ جسے سوار اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔
'سردار نے پودا باگ کا لیا اور سامنے فیروز بخت کے آکر اجازت چاہی۔"      ( ١٩٠٢ء، آفتاب شجاعت، ٢٢٦:١ )
٤ - بچہ، لڑکا، لڑکی۔ (پلیٹس)
٥ - بونڈی، چنور، ایک قسم کی گھاس۔ (پلیٹس)۔