ٹانگ

( ٹانْگ )
{ ٹانْگ (ن مغنونہ) }
( سنسکرت )

تفصیلات


ٹنگ  ٹانْگ

سنسکرت کے اصل لفظ 'ٹنگ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹانگ' مستعمل ہے اردو میں اصلی معن میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٦٣٦ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : ٹانْگیں [ٹاں + گیں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : ٹانْگوں [ٹاں + گوں (واؤ مجہول)]
١ - ران کی جڑ سے پاؤں تک کا حصہ۔
"کوٹھے کے زینے سے گرپڑے جس سے ان کی ایک ٹانگ میں سخت چوٹ آئی"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٦٩:٣ )
٢ - [ عوام ]  حصہ، چوتھا حصہ، (دلال) چوتھائی حصہ۔ (پلیٹس؛ نوراللغات)
١ - ٹانگ پھنسانا
بیچ میں دخل دینا، مزاحم ہونا۔"بڑی نرمی سے سمجھایا کہ یہ سب بزنس کی باتیں ہیں بے کار عورتوں کو ٹانگ نہیں پھنسانا چاہیے۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ١٢٧ )
٢ - ٹانگ مارنا
[ ادبیات  ]  ٹانگ کا پیچ کرنا۔"اس نے اپنی ٹانگ ماری کہ حریف چاروں خانے چت گرا۔"      ( ١٩٢٦ء، نور اللغات )
مزاحمت کرنا، دخل انداز ہونا۔"معاملہ بالکل صاف تھا۔ تم نے آکر خواہ مخواہ ٹانگ مار دی۔"      ( ١٩٧٥ء، اردونامہ، ٢٣٧:٥ )
  • the leg (from the hip to the foot);  a share;  a fourth part
  • a quarter (in the language of brokers)