چاول

( چاوَل )
{ چا + وَل }
( سنسکرت )

تفصیلات


تَنْڈولَن  چاوَل

سنسکرت زبان کے لفظ 'تنڈولن' سے ماخوذ اردو میں 'چاول' بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء میں "عملی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : چاوَلوں [چا + وَلوں (و مجہول)]
١ - ایک سفید غلّہ یا دانہ جو دھان کا چھلکا دور ہونے سے برآمد ہوتا ہے نیز دھان۔
"چاول یا دھان . یہ ایک سالہ بوٹی ہے عموماً گرم ممالک میں کاشت کی جاتی ہے"      ( ١٩٦٢ء، مبادی نباتیات، ٢٥٣ )
٢ - زیرہ یا گرمی جو کسی نبات یا کسی غلے سے نکالی جائے۔
"چڑچٹے کے چاول، کنگنی کے چاول، دھنیے کے چاول وغیرہ۔"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ٩٥:٢ )
٣ - کسی میوے وغیرہ کے تراشے یا کترے ہوئے ٹکڑے۔
اس میں انگور یا انناس کے چاول یا سنترہ کی پھانک کے ٹکڑے ڈال کے . پانی میں رکھ دیں۔"      ( ١٩٤٤ء، ناشتہ، ١٥ )
٤ - آٹھ خشخاش کے دانوں کے برابر وزن۔ (خزائن الادویہ، 331:1)