ٹنڈ

( ٹُنْڈ )
{ ٹُنْڈ }
( سنسکرت )

تفصیلات


تنڈن  ٹُنْڈ

سنسکرت میں اصل لفظ 'تنڈن' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹنڈ' مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے تحریری طور پر ١٩٢٥ء میں "ابوالحسنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : ٹُنْڈوں [ٹُن + ڈوں (واؤ مجہول)]
١ - کٹا ہوا ہاتھ، بے پنجے کا پہنچا، کلائی جس سے پنجہ کٹ گیا ہو۔
"زید نے اپنے ٹنڈ کو حرکت دے کر کہا"      ( ١٩٢٥ء، ابوالحسنین، ٢٣ )
٢ - درخت کی کٹی ہوئی شاخ یا ایسی موٹی شاخ جس میں اور شاخیں نہ ہوں؛ کٹی ہوئی دم۔
٣ - جسم کا کٹا ہوا کوئی عضو وغیرہ۔
"جب منقطعہ مرکزی ٹنڈ کو پیچھے کی طرف اولٹ کرعضلات کے درمیان یا جلد کے نیچے جماد یا جائے تو . چند ریشے اس سے نکل کر عصیب کے انحطاط یا فتہ محیطی حصہ میں جا پہنچیں"      ( ١٩٣١ء، نسیجیات، ١٦٤ )
  • a hand or branch that has been cut off;  stump of a branch
  • or arm