پیسا

( پَیسا )
{ پَے (ی لین) + سا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پاد+ایکا+سدرشکہ  پَیسا

سنسکرت میں اسم 'پاد + ایکا + سدرشکہ' سے ماخوذ 'پیسا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٢٨ء کو 'لازم المبتدی' میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : پَیسے [پَے (ی لین) + سے]
جمع   : پَیسے [پَے (ی لین) + سے]
جمع غیر ندائی   : پَیسوں [پَے (ی لین) + سوں (و مجہول)]
١ - تانبے کا ایک سکہ جو غیر منقسم ہند میں (اور اس سے کچھ مدت بعد تک) وزن میں 7 ماشے قطر میں ایک انچ سے دو ایک سوت کم اور قدر میں روپے کا چونسٹھواں حصہ یعنی تین پائی کے برابر ہوتا تھا پاکستان میں تانبے وغیرہ کا ایک سکہ جو وزن میں 2 ماشے، قطر میں آدھ انچ سے کم اور قدر میں روپے کا سواں 1/100 ہوتا ہے، دیگر ممالک میں بھی اسی نام کے سکے رائج ہیں اور مختلف قیمت رکھتے ہیں۔
"پیسہ خرچ نہ ہو گا تو کیا ہو گا۔      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٣٠:٤ )
٢ - مسلمانوں کے عہد کا قدیم تانبے کا سکہ جو ایک تولہ وزن کا ہوتا تھا اور مسوری پیسے کے نام سے مصروف تھا، پیسا بھر۔ (ماخوذ : اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 9:7)
٣ - قرض یا لگان وغیرہ کی رقم۔
"سات برس کا پیسہ سارے راج کو چھوڑ دیا گیا۔"      ( ١٨٠٣ء، رانی کیتکی، ٦٣ )
٤ - [ مجازا ]  مالی منفعت، آمدنی، یافت۔
"اگر جانا بہت کلفت آمیز معلوم ہو رہا ہے تو پیسوں کے خیال سے ہرگز مت جاؤ۔"      ( ١٩٤٧ء، حرفِ آشنا، ٣٨ )
  • a copper coin
  • a pice (the fourth part of an ana
  • in value about a farthing and a half);  money
  • cash
  • wealth
  • riches
  • fortune