احتساب

( اِحْتِساب )
{ اِح + تِساب (کسرہ ت مجہول) }
( عربی )

تفصیلات


حساب  اِحْتِساب

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب 'افتعال' سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر - واحد )
١ - حساب کتاب، شمار، گنتی۔
 کدھر ہے ساقی گلرو شراب ناب پلا جو احتساب کا ڈر ہے تو بے حساب پلا      ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ١١:٥ )
٢ - عیب و صواب کی جانچ پڑتال، باز پرس، دیکھ بھال، جائزہ، محاسبہ۔
 ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں ہے حقیقت جس کی دین احتساب کائنات      ( ١٩٣٨ء، ارمغان حجاز، ٢٢٨ )
٣ - روک ٹوک، ممانعت (بری باتوں سے)
 میں جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ تو اس گناہ کو بے احتساب پینے دے      ( ١٩٤٦ء، طیورآوارہ، ١٥١ )
٤ - [ تصوف ]  "محاسبہ کرنا نفس عارف کا تفصیل تعینات سے یعنی ڈھونڈنا ان میں حقائق کونیہ و شیون الٰہیہ کو۔" (مصباح التعرف لارباب التصوف، 27)
  • making up accounts
  • reckoning
  • estimating;  superintendence of police;  superintendence of weights and measures in the markets of a town