آشوب

( آشوب )
{ آ + شوب (واؤ مجہول) }
( فارسی )

تفصیلات


آشفتن  آشوبیدن  آشوب

فارسی مصدر 'آشفتن' سے فعل متعدی 'آشوبیدن' بنا جس سے یہ حاصل مصدر ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم اور گاہے بطور صفت بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧١٣ء میں فائز کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر ( مذکر )
جمع غیر ندائی   : آشوبوں [آ + شو (و مجہول) + بوں (و مجہول)]
١ - شور غوغا، ہنگامہ۔
 ستم کی مشق میں اندیشہ فردانہ کر ظالم غریبوں کی سنے گا کون آشوب قیامت میں    ( ١٩٣٥ء، عزیز، انجم کدہ، ٨٧ )
٢ - فتنہ و فساد۔
"خاص اسپین کی حدود اس آشوب سے پاک تھی۔"    ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٢٣:٥ )
٣ - اذیت، تکلیف۔
 تیرے قدموں کی قسم ہم سب ازل سے مست ہیں سرگرانی کی شکایت ہے نہ آشوب خمار      ( ١٩٣٣ء، نظم طباطبائی، ٢٧ )
٤ - آفت، بلا مصیبت۔
ع کہتی تھی ہر اک سوں وو آشوب جاں      ( ١٧١٣ء، فائز، دیوان، ٢٠٦ )
٥ - تلاطم، اضطراب۔
 آشوب بحر ہستی کیا جانیے ہے کب سے موج و حباب اٹھ کر لگ جاتے ہیں کنارے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٨٣١ )
٦ - ڈر، خوف (پلیٹس، جامع اللغات 41:1)
٧ - آنکھ دکھنے کی کیفیت، آنکھ کی سرخی جو دکھنے کی وجہ سے ہو، درد چشم۔
"غزوہ خیبر میں جب آپ نے علم عطا فرمانے کے لیے حضرت علی بن ابی طالب کو طلب فرمایا تو معلوم ہوا کہ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٥٦٨:٣ )
صفت ذاتی
واحد غیر ندائی   : آشوبی [آ + شو (واؤ مجہول) + بی]
جمع غیر ندائی   : آشوبوں [آ + شو (واؤ مجہول) + بوں (واؤ مجہول)]
١ - بہروپیا، بناوٹی طور پر کسی کا بھیس بھرنے والا۔ (پلیٹس)
  • شورَش
  • پَرِیشانی