آمیزہ

( آمیزَہ )
{ آ + مے + زَہ }
( فارسی )

تفصیلات


آمیختن  آمیز  آمیزَہ

فارسی زبان کے مصدر 'آمیخن' سے حاصل مصدر 'آمیزش' سے 'ش' گرا کر ہندی قاعدہ کے مطابق 'ہ' بطور لاحقۂ اسمیت مذکر لگانے سے 'آمیزہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩١١ء میں "باقیات بجنوری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع   : آمیزے [آ + مے + زے]
جمع غیر ندائی   : آمیزوں [آ + مے + زوں (واؤ مجہول)]
١ - آمیز کیا ہوا، مرکب۔
"ان کی زبان اردو اور انگریزی الفاظ کا ایک عجیب آمیزہ ہے۔"      ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ٢٤ )
٢ - کیمیاوی محلول، مکسچر۔
"ہائیڈروجن دو بالکل مختلف نوعیتوں کے سالمات کا آمیزہ ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، طبیعی مناظر، ٧٣٨ )
  • مُرَکَّبْ
  • صُحْبَتْ