ارزاں

( اَرْزاں )
{ اَر + زاں }
( پہلوی )

تفصیلات


اَرْز  اَرْزاں

پہلوی زبان سے میں لفظ 'اَرْز' بمعنی 'قیمت' کے ساتھ 'ان' لاحقہ فاعلی لگایا گیا ہے۔ پہلوی سے فارسی کے ذریعے سے اردو میں داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٦٧٩ء کو "دیوان سلطان" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
تقابلی حالت   : اَرْزاں تَر [اَر + زاں + تَر]
تفضیلی حالت   : اَرْزاں تَرِین [اَر + زاں + تَرِین]
١ - کم بہا، کم قیمت، سستا۔
"اس نے ضروریات زندگی کو ارزاں بنایا۔"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطی کی ایک جھلک، ١٥٤ )
٢ - [ مجازا ]  کثیر، فراواں، وافر۔
 رہنماؤں کا نہیں اگلا سا قحط اب تو لیڈر سخت ارزاں ہو گئے      ( ١٩٣٧ء، نغمہ فردوس، ٤٠:٢ )
  • cheap
  • abundant