کٹر

( کَٹَّر )
{ کَٹ + ٹَر }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رَس" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - (رائے، عقیدہ یا نظریے میں) سخت یا مستحکم اور پختہ، کٹا۔
"میری بیوی اگرچہ کٹر مسلمان ہے لیکن دیہاتی عورت کی طرح اس نے اللہ کو کچھ زیادہ حقوق دے رکھے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٣٤ )
٢ - سنگدل، بے رحم، بے مروت۔
"جو باپ چار ساڑھے چار لاکھ کی جائداد چھوڑ کر مرا، اس کی اکلوتی بیٹی ایک کٹر ساس کی دست نگر تھی۔"      ( ١٩٢٩ء، طوفان اشک، ١٩ )
٣ - اپنی ضد پر جمنے والا، اڑیل، ضدی، متشدّد، سخت، جارح۔
"ادبی تاریخ کی ترتیب و تدوین میں ان کا کٹّر سے کٹّر مخالف بھی ان کے نام کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔"      ( ١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری، شخصیت اور فکر و فن، ٧ )
  • پَکَّا
  • راسِخْ