بذات خود

( بَذاتِ خود )
{ بَذا + تے + خُد }

تفصیلات


عربی اسم 'ذات' اور فارسی اسم ضمیر 'خود' کے درمیان اضافت لگنے سے مرکب اضافی 'ذات خود' بنا اور پھر فارسی حرف جار 'ب' بطور سابقہ لگنے سے "بذاتِ خود" مرکب بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے تحریری طور پر ١٩٤٦ء میں "مقالات شیرانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

متعلق فعل
١ - اپنے آپ، خود ہی، بنفس نفیس۔
"شہزاد ناکام رہا اور بادشا بذات خود روانہ ہوئے۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٧٥ )