آپ

( آپ )
{ آپ }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت میں 'آتمن'مستعمل ہے۔ ہندی میں 'اپن' مستعمل ہے لیکن اردو میں سنسکرت سے ہی آیا اور 'آپ' مستعمل ہوا ہے اور ضمیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، سب سے پہلے ١٣٢٤ء میں امیر خسرو کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

ضمیر شخصی
حالت   : تخصیصی
١ - "اپنا اپنے یا اپنی کی جگہ، جیسے : آپ کاج مہا کاج"
آپ بیتی کہوں کہ جگ بیتی۔      ( ١٩٢٩ء، وداع خاتون، ٢٣ )
ضمیر شخصی ( حاضر )
١ - 'تو' اور 'تم' (واحد و جمع) کی جگہ تعظیماً مستعمل؛ حضور، جناب۔
 جھک کے مل سارے جہاں سے ورنہ اے دِل ایک دِن دیکھ لینا آپ سے تم تم سے تو ہو جائے گا      ( ١٩٣٣ء، عروج، عروج سخن، ٩١ )
٢ - غائب کو حاضر فرض کر کے تعظیماً 'وہ اُس یا ان' کی جگہ۔
"آپ حج کے ساتھ ضمناً و تیماً مدینہ منورہ کی زیارت خلافِ ادب . سمجھتے تھے۔"      ( ١٩٣٠ء، سفر حجاز، عبدالماجد دریا آبادی، ٦٩ )
٣ - (طنزاً) ادنٰی درجے کے شخص سے تخاطب کے موقع پر (اکثر 'بھی' کے ساتھ)
آپ بھی بڑے عجب انسان ہیں۔      ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ٤٨٦:١ )